AhnafMedia

تھوڑی سی دیر !……

Rate this item
(2 votes)

تھوڑی سی دیر !……

مولانا عابد جمشید

”دوبارہ فون کرو دس منٹ ہوگئے ہیں ابھی تک وہ ڈاکٹر کا بچہ نہیں پہنچا۔“برہان صاحب نے پورا ہسپتال سر پر اٹھایا ہوا تھا۔ ”سر! ڈاکٹر صاحب سے بات ہوئی ہے وہ ٹریفک میں پھنس گئے تھے بس تھوڑی دیر میں پہنچ جاتے ہیں ۔“خوش اخلاق ریسپشنٹ نے حتی الامکان لہجے کو نرم بناتے ہوئے جواب دیا۔ ”یہ ڈاکٹر اگر بخشے گئے تو سمجھو سب لوگ جنتی ہیں۔ جھوٹ اور فراڈ کے علاوہ ان کو کچھ سوجھتا ہی نہیں۔“برہان صاحب کا پارہ مزید چڑھ گیا۔

برہان عظیم شہر کی جانی پہچانی شخصیت تھے کئی مارکیٹوں کے مالک، انتہائی اکھڑ مزاج اور ہر ایک سے لیے دیے رہنے والے۔ آج گیارہ بجے کے قریب وہ گھر سے نکلنے لگے تو ان کے اکلوتے بیٹے خالد عظیم کے پیٹ میں اچانک شدید درد اٹھا ،برہان صاحب کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ بیٹے کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالا اور ڈرائیور کو حکم دیا :”فوراً سعید ہاسپٹل پہنچو۔“

ڈاکٹر سعید احسان کا شمار شہر کے قابل ترین ڈاکٹرز میں ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں دست شفا سے نوازا تھا ۔بچے کی حالت سے لگ رہا تھا کہ تکلیف اس کی برداشت سے باہر ہے بھاگم بھاگ ہسپتال پہنچے ایمرجنسی ڈیوٹی پر موجود جو نیئر ڈاکٹر اور نرس نے خالد عظیم کاچیک اپ کرنے کے بعد ایک اور بری خبر سنائی:”بچے کوپینڈکس اور اس کا آپریشن کرنا ہوگا۔“

” فوراًآپریشن کی تیاری کرو۔“ برہان صاحب چلائے ۔”او۔کے سر !لیکن یہ کیس ہمارے بس کا نہیں، ڈاکٹر سعید احسان کو بلانا ہوگا۔“ جونیئر ڈاکٹر نے ادب سے کہا۔” تو بلاؤ اسے منہ کیا دیکھ رہے ہو؟“ برہان صاحب کی آواز میں غصے اور بے بسی کے ملے جلے جذبات تھے۔

”سر !آپ اطمینا ن سے تشریف رکھیں ،بچے کو درد کش دوا دی جاچکی ہے ۔ڈاکٹر سعید صاحب سے بات ہوگئی ہے وہ بھی تھوڑی دیر میں پہنچ رہے ہیں۔“ نرس نے آگے بڑھ کر کہا ۔ ”بی بی !کمال کرتی ہو تم بھی… میرے بیٹے کی جان پر بنی ہے او رتم فرما رہی ہو کہ اطمینان سے تشریف رکھو۔ جلدی بلاؤ اپنے ڈاکٹر سعید کو۔“ برہان صاحب پاؤں پٹخ کر بولے۔

”سر !پلیز ریلیکس! ڈاکٹر سعید صاحب بس تھوڑی دیر میں آجاتے ہیں ان شاء اللہ۔“ جونیئر ڈاکٹر بولا۔ خالد عظیم کو آپریشن تھیٹر میں لے جایا جا چکا تھا اور آپریشن کی ابتدائی تیاریاں بھی ہوچکی تھیں۔ اب انتظار تھا تو ڈاکٹر سعید احسان کا۔ برہان عظیم مٹھیاں بھینچے کوریڈور میں ٹہل رہے تھے وہ بار بار کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھتے اور زیر لب کچھ بڑبڑانے لگتے۔

ان کا ڈرائیور ان کے مزاج سے واقف تھا وہ ایک کونے میں خاموش کھڑا تھا ایک عجیب بات جوا س کے صورتحال میں بھی ڈرائیور نے محسوس کی تھی وہ یہ کہ ہسپتال کے سارے سٹاف کی آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی تھی۔

ہاسپٹل پہنچنے کے کچھ دیر بعد اگرچہ جونیئر ڈاکٹر نے انہیں یہ آپشن بھی دیا تھا کہ اگر وہ چاہیں تو ڈاکٹر سعید احسان کا انتظار کرنے کے بجائے کسی اور ڈاکٹر کے پاس بھی جاسکتے ہیں لیکن سعید احسان کی نیک نامی اور مہارت کے سنے ہوئے قصوں نے برہان عظیم کے پاؤں پکڑلیے تھے ۔آخر چودہ منٹ کے بعد ڈاکٹر سعید احسان آپہنچے ان کے بال پریشان اور لباس شکن آلود تھا برہان عظیم انہیں دیکھتے ہی برس پڑے یہاں ہسپتال میں مریض خواہ تڑپ تڑپ کر مر جائے۔لیکن جناب ڈاکٹر صاحب بارہ بجے سے پہلے بستر سے نیچے قدم نہ رکھیں گے۔ ڈاکٹر سعید احسان کو ان کی بات سن کر جھٹکا سا لگا لیکن پھر وہ فورا سنبھل گئے اور مسکرا کر بولے :”محترم ! میں سو نہیں رہا تھا کسی ضروری کام میں مصروف تھا ،جب مجھے اطلاع ملی کہ آپ کے بچے کی طبعیت زیادہ خراب ہے تو میں فورا بھاگا لیکن ٹریفک کی وجہ سے کچھ تاخیر ہوگئی ۔“

”واہ واہ ! ضروری کام ۔۔چھوڑیں!ڈاکٹر صاحب میں بڑی اچھی طرح جانتا ہوں آپ کس ضروری کام میں مصروف ہوں گے ۔“برہان صاحب زیر خند لہجے میں بولے۔

ان کے عقب میں کھڑے جونیئر ڈاکٹر نے انہیں گھور کر دیکھا لیکن برہان صاحب کے چہرے پر بدستورمسکراہٹ ۔”آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اندر جاکر بچے کو دیکھ سکوں؟ مسٹر جلدی سے اندر آپریشن تھیٹر میں میرے ساتھ آئیں ہم پہلے ہی کافی وقت ضائع کر چکے ہیں اور محترم آپ اللہ تعالی سے دعا کیجئے۔“ ڈاکٹر سعید احسان یہ کہہ کر لمبے لمبے قدم اٹھاتے اندر داخل ہوگئے۔برہان عظیم نڈھال ہوکر ایک صوفے پر گر پڑے اور دل ہی دل میں اپنے بیٹے کی سلامتی کی دعا کرنے لگے دو گھنٹے جیسے کئی صدیوں پر محیط ہوگئے ہوں پتہ نہیں برہان صاحب نے کیسے گذارے ۔آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر سعید احسان باہر نکلے ”محترم !مبارک ہو آپ کے بچے کا آپریشن کامیاب ہوگیا ہے، تین دن بعد آپ اسے گھر لے جا سکتے ہیں۔“

وہ ایک لحظہ برہان کے سامنے رکے اور پھر تیزی سے باہر نکل گئے ۔”عجیب آدمی ہے یہ ڈاکٹر پھر بھاگ گیا ہ کچھ دیر تو رکتا کہ میں اپنے بیٹے کے بارے میں تفصیل سے پوچھ لیتا۔“ برہان عظیم کا پارہ چڑھ گیا۔ یہ سب ڈاکٹر ایسے ہی ہوتے ہیں فضول میں لوگ انہیں فرشتوں جیسا مشہور کردیتے ہیں وہ مسلسل بولے جارہے تھے ۔”خدارا !اب بس بھی کیجئے خواہ مخواہ میں بدگمان ہوئے جارہے ہیں۔“اب جونیئر ڈاکٹر کی برداشت جواب دے گئی وہ برہان صاحب کے سامنے آکھٹرا ہوا۔” اس فرشتہ صفت انسان کوآپ نے اپنی زبان کے بہت نشتر چبھو لیے اب تو خاموش ہو جائیے۔“ جونیئر ڈاکٹر کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ پڑا۔ ”آپ نہیں جانتے محترم !آج صبح ایک نوجوان اپنی جان سے دھو بیٹھا اور وہ نوجوان۔۔ وہ نوجوان ۔۔ ڈاکٹر سعید احسان کا اکلوتا بیٹا تھا۔“برہان عظیم کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔”جی ہاں !جب آپ اپنے بیٹے کو یہاں لے کر آئے تب ڈاکٹر احسان اپنے بیٹے کی تجہیز و تکفین میں مشغول تھے لیکن ایمرجنسی کی وجہ سے سب کچھ وہیں چھوڑ کر آپ کے بیٹے کے آپریشن کے لیے آگئے اب وہ اپنے لاڈلےبیٹے کودفنانے کے لیے گئے ہیں۔“

” اوہ میرے خدایا“ برہان عظیم کے منہ سے نکلا اور پھر وہ اپنا سر تھام کر زمین پر بیٹھتے چلے گئے۔

Read 1441 times

DARULIFTA

Visit: DARUL IFTA

Islahun Nisa

Visit: Islahun Nisa

Latest Items

Contact us

Markaz Ahlus Sunnah Wal Jama'h, 87 SB, Lahore Road, Sargodha.

  • Cell: +(92) 
You are here: Home Islamic Articles (Urdu) تھوڑی سی دیر !……

By: Cogent Devs - A Design & Development Company