AhnafMedia

Biwi ko Apnay Waldain k Gher Ekathay Rehnay per Majbor kerna

Rate this item
(59 votes)

سوال:

السلام عليكم و رحمۃ اللہ و برکاتہ:

سائل کا تعلق پاکستان سے ہے لیکن پچهلے دو تین سال سے روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک قیام پذیر ہے۔میرا  مسئلہ یہ ہے کہ  میں جو بهی کماتا ہوں اپنی والدہ کے نام پیسے بھیجتا ہوں، فیملی ہماری ایک ساتھ  ہے۔ والد صاحب اور ایک  بهائی سعودیہ میں  ہیں،  باقی دو بهائی،  ایک بہن،میری والدہ،  ایک بهابهی، میری  بیوی اور  میرے دو بچے  یہ سب اکٹهے رہتے ہیں ۔ بیوی مجهے کہتی ہے گهر والے اسے ناجائز تنگ کرتے ہیں ، ناراض ہوتے ہیں۔  بچے بیمار ہوں تو کئی کئی  روز منتوں کے بعد دوا ئی لا کر دیتے ہیں۔ بس اچها اچها کرتے رہتے ہیں ۔وہ کہتی ہے یہ سب گهر کا نظام غیر اسلامی ہے، قیامت میں سب کو پتا چلے گا وغیرہ وغیرہ۔تو کیا ایسے معاملات میں؛  میں اپنی  والدہ سے پوچھ  سکتا ہوں کہ میرے بیوی بچوں کے ساتھ وہ  ایسا کیوں کرتی ہیں؟ ۔اور یہ کہ مجهے کچھ  رقم اپنے پاس  رکهنی چاہئے یا نہیں؟ جبکہ گهر کا سارا نظام والدہ ہی چلاتی ہیں۔ براہِ مہربانی وضاحت فرمائیں۔

 

جواب:

 

قرآن کریم اور حدیث نبوی میں والدین کی خدمت کے بڑے فضائل آئے ہیں اور ان کی نافرمانی کے وبال بھی بڑی تفصیل سے  ذکر کیے گئے ہیں۔جائز کاموں میں والدین کی  خدمت و اطاعت فرض ہے۔ اسی  طرح اپنی بیوی کے حقوق ادا کرنا اور استطاعت کے مطابق اس کی دیکھ بھال کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے۔ جو صورتِ حال آپ کو درپیش ہے ، اس میں آپ ٹھنڈے دل و دماغ سے اپنی بیوی کو سمجھائیں کہ وہ گھر کی چھوٹی موٹی باتوں کو برداشت کیا کرے، خواہ مخواہ معمولی باتوں کو طول دے کر اختلافات کی فضا قائم نہ کرے۔اسی طرح آپ اپنی والدہ  کی خدمت میں بڑے ادب و احترام سے گزارش کریں کہ وہ اپنی بہو کو اپنی بیٹی سمجھ کر اس کا خیال رکھا کریں۔ یہ سمجھانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ بسا اوقات حقیقت میں بات کچھ بھی نہیں ہوتی مگر غلط فہمی کی وجہ سے اسے اتنا اچھالا جاتا ہے کہ وہ بہت بڑی لڑائی کا سبب بن جاتی ہے۔ آپ کا یہ اقدام لائق ِ تحسین ہے کہ  اپنی کمائی اپنی والدہ کے ہاتھ پر رکھ دیتے ہیں مگراس میں سے کچھ اپنے پاس رکھ سکتے ہیں  تاکہ بوقتِ ضرورت آپ کے اور آپ کے اہل و عیال کے کام آ سکے۔تا ہم یہ بات واضح رہے کہ اگر آپ کی بیوی اپنی خوشی سے آپ کی والدہ کے ساتھ رہنا چاہے اور ان کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھے تو بہت اچھی بات ہے۔لیکن اگر وہ الگ رہائش کی خواہش مند ہو تو اسے اکٹھے رہنے پر مجبور کرنا جائز نہیں۔کیوں کہ بیوی کو الگ جگہ میں رکھنا (خواہ اسی مکان کا ایک حصہ ہو، جس میں اس کے سوا کسی اور کا عمل دخل نہ ہو) شوہر کے ذمّہ شرعاً واجب ہے۔ واللہ اعلم بالصّواب

دارالافتاء مرکز اہل السنّت والجماعت ، سرگودھا

17 ذیقعدہ 1435 ھ ، 13 ستمبر2014 ء

 

 

 

Read 10982 times

DARULIFTA

Visit: DARUL IFTA

Islahun Nisa

Visit: Islahun Nisa

Latest Items

Contact us

Markaz Ahlus Sunnah Wal Jama'h, 87 SB, Lahore Road, Sargodha.

  • Cell: +(92) 
You are here: Home Question & Answers حقوق و معاشرت - Relations n Rights Biwi ko Apnay Waldain k Gher Ekathay Rehnay per Majbor kerna

By: Cogent Devs - A Design & Development Company